مال تاج محل کو نایاب ہیروںں سے سجایا گیا تاج محل مغل بادشاہ نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تاج محل 42 ایکڑ پر مشتمل ہےبعد میں شاہ شاہ جہاں بھی یہاں دفن کیا گیا تھا تاج محل اتر پردیش آگرہ میں ہے جس جس کی بلندی تہتر میٹر ہے اور یہ محل تاج محل کو استاد احمد لاہوری نے تعمیر کیا لاکھوں کی تعداد میں سیاح ہندوستان میں تاج محل کو دیکھنے آتے ہیں حالانکہ تاج محل کی تعمیر 1653 مکمل ہو گئی تھی لیکن پھر بھی 10 سال اس کی سجاوٹ میں لگائے گئے 1653 میں تاج محل کی تعمیر پر جو خرچ آیا تھا وہ 32 ملین روپے تھا شاہجہاں بیگم ایرانی نسل کی تھی جو اپنے 14 بچے کی پیدائش پر وفات پاگئیں تاج محل کو محبت کا مندر بھی کہا جاتا ہے جو یمنا ندی کے کنارے واقع ہے۔ تاج محل کے دونوں طرف باغات ہیں تاج محل کی تعمیر میں 25 ہزار مزدوروں نے کام کیا. مغلہ تعمیر کی طرز پر تاج محل کو تعمیر کیا گیا ہے تاج محل کو ہر سال 10 سے 12 ملین لوگ وزٹ کرتے ہیں شاہجہان جہانگیر بادشاہ کا بیٹا تھا یہ پانچواں مغل بادشاہ تھا تاج محل کے مزدوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے ہاتھ شاہ جہاں نے کٹوا دیے تھے تاکہ آپ ایسا محل کوئی اورتعمیر نہ کروا سکے لیکن یہ بات بعد میں معلوم ہوئی تھی کہ یہ افواہ تھی جھوٹی بات تھی تاج محل کے سامنے لگے فوارے ایک ہی مقدار اور تعداد میں اپنا کام سرانجام دیتے ہیں تاج محل کی تعمیر میں 27 اقسام کے پتھر لگوائے گئے تھے جس کو بعد میں انگریز اپنی حکومت میں نکلوا کے برطانیہ لے گئے تھے شاہ جہاں کی خواہش تھی کہ وہ اپنی ملکہ ممتاز کے تاج محل کے سامنے اپنا مقبرہ بھی تیار کروائے گا جو کہ کالے پتھروں سے بنایا جائے گا کیونکہ تاج محل جو تھا وہ سفید پتھروں سے بنایا گیا تھا لیکن شاہ جہاں کا خواب ادھورا رہ گیا اور شاہ جہاں کا مدفن میں ملکہ کے ساتھ ہی بنا تاج محل کےرنگ دن میں بدلتے رہتے ہیں دن کو تاج محل کا رنگ گلابی ہوتا ہے شام کو دودھیا اور چاندنی رات میں سنہرا دکھائی دیتا ہے تاج محل کو ایک دن 12 ہزار سے زیادہ لوگ دیکھنے آتے ہیں جو کسی بھی عجوبے کو نہیں دیکھنے آتے مغل بادشاہ منگولوں کی نسل میں سے تھے مغلیہ سلطنت کے آغاز کے بعد دنیا ھندوستا ن کو سو نے کی چڑیا کہتی تھی تاج محل کو عالمی ثقافتی ورثہ میں انیس سو تراسی میں شامل کیا گیا 1658عیسوی میں شاہ جہاں کی زندگی میں ہی ان کے بیٹوں کے درمیان بادشاہت کے حصول کے لیے جنگی شروع ہوگئی اور اورنگزیب نے شاہ جہاں کو لال قلعہ قید کر دیا اور وہ ان کی موتکچھ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ انگریزوں نے یونیورسٹیاں بنوائی جبکہ مغل جو بادشاہ تھے انھوں نے تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی اور محبت کی علامات بنواتے رہےیہ باتچہچہ ہیں لیکن بھارت کے لئے تاج محل کی موجودگی ایک بہت ہی کامیابی ہےلیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بڑھتی ہوئی پولوشن کی وجہ سے آپ تاج محل کے سفید پتھر کے رنگ بھی بدلنا شروع ہوگئے ہیں اور یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ہندوستان کے لیے

کمال❤️
جواب دیںحذف کریں