منگل، 5 مارچ، 2019

کتب بینی ایک مفید مشغلہ


    ایکCEOs کرنےوالےRunکروڑوں روپوں کی کمپنی کو 
ہفتے میں کم از کم ایک کتاب کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں بولی وڈکے ہیرو لکھتے ہیں تم سے پہلے بہت سے لوگ مرےاور جیے تمھارے مسائل کوئی نئے نہیں ہوں گے اس لیےکتابےپڑھاکروتمہارےپرابلم اس میں لکھے ہوئے ہوں گے سب سے پہلے  کاغذ ہی تھا علم کو محفوظ کرنے کا سیلف ہیلپ ہماری زندگی کی یوزرز ہیں جب ہم کس کو پڑھیں گے تو ہم ایک صحیح طریقے سے اور انداز سے اپنی زندگی کو چلا پائیں گےاور زندگی رشتوں کونبھا پائیںگے اگر ہم بکس کو یوزر گائیڈ سمجھ کر پڑھیں گے تو ہماری صحت دولت اور خوشیوں میں اضافہ ہوگااگر ہم بوکس کو نہیں پڑیں گے تو لوگوں سے بات چیت رہن سہن اور رشتوں کو نبھانا ہم سیکھ نہیں پائےگے اور رزلٹ کے طور پر یہی کہیں گے کہ زندگی بہت مشکل ہے قاسم علی شاہ فرماتے ہیں کہ میرے استاد نے مجھے نصیحت

کی کہ بیٹاکورس سے ہٹ کے کتابیں پڑھا کرو میں نے اس دن سے کتابیں پڑھنا شروع کردیں اب کتابیں پڑھنا میری عادت بن چکا ہے جس نے مجھے زندگی میں بہت زیادہ   فائدہ  کیا وہ لکھتے ہیں کہ کتاب آپ کو بعد دے گی
جو ہمیشہ مثبت بات ہوگی منفی بات نہیں ہوگی اور جو کتاب میں پڑھنا ہے اس کا ذہن ہمیشہ مثبت سوچیئے گا کبھی منفی نہیں ذہن فوکس کرنا سیکھتا ہے نت نئے خیالات ملتے ہیں انسان پر نصابی کتب  کے علاوہ کردار کو بنانے میں بہت بڑا کردار اداکرتا ہیں زندگی میں بہتری لانے کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے     والٹیڑ لکھتا ہے انسانوں نے انسانوں پر اتنی حکومت نہیں کی کتنی کتابوں نے انسانوں پر کی ہے دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں وہاں پر کتب بینی بہت زیادہ ہے اور ریلوے اسٹیشن پر بسوں میں پارکس میں کتابیں ہی پڑھتے نظر آتے ہیں یہودیوں کی ترقی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ وہ کتب بینی میں ہم سے بہت آگے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق ایک ے گیارہ کتابیں کم سےکم پڑتا ڈاکٹرطاھرالقادری مشہور مسلم سکالر لکھتے ہیں کتابیں خریدنے کیلئے فاقے کرتا تھا اورآ ج م یری لائبریری  دنیا میں جس بھی ملک جاتا ہوں کتابوں کے کے ساتھ ہوں کتاب ایک بہت بھترین صحبت ہے    نسان جیسی شخصیت کی کتاب کا مطالعہ کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے ان سے براہ راست استفادہ کر رہا ہوں فتنوں سے انسان بچ جاتا ہے قرآن شریف کا پڑھنا ایسا ھےجےسےاللہ پاک سے کلام کر رہا ہے اور حدیث پاک  پڑھنا ایسے ہی جیسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں انسان بیٹھا ہوا ہے انسان کو علم حاصل ہوتا ہے اور انسان نیکی کی طرف چلتا ہے اور  جس طرح انسان کھانا نہیں روک سکتا مرنے تک  ایسے ہی مرتے دم تک کتاب کا مطالعہ بھی بند نہیں کر سکتا کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے بک سٹالز کا چکر لگانا چاہیے اور کتابیں خریدنے چاہیے اچھے اور معیاری کتابیں خود بھی پڑھنی چاہیے اور کتب بینی کے فروغ کے لیے دوستوں کو بھی تحفے تحائف میں معیاری

 کتابیں دینی چاہیے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں