ایکCEOs کرنےوالےRunکروڑوں روپوں کی کمپنی کو
ہفتے میں کم از کم ایک کتاب کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں بولی وڈکے ہیرو لکھتے ہیں تم سے پہلے بہت سے لوگ مرےاور جیے تمھارے مسائل کوئی نئے نہیں ہوں گے اس لیےکتابےپڑھاکروتمہارےپرابلم اس میں لکھے ہوئے ہوں گے سب سے پہلے کاغذ ہی تھا علم کو محفوظ کرنے کا سیلف ہیلپ ہماری زندگی کی یوزرز ہیں جب ہم کس کو پڑھیں گے تو ہم ایک صحیح طریقے سے اور انداز سے اپنی زندگی کو چلا پائیں گےاور زندگی رشتوں کونبھا پائیںگے اگر ہم بکس کو یوزر گائیڈ سمجھ کر پڑھیں گے تو ہماری صحت دولت اور خوشیوں میں اضافہ ہوگااگر ہم بوکس کو نہیں پڑیں گے تو لوگوں سے بات چیت رہن سہن اور رشتوں کو نبھانا ہم سیکھ نہیں پائےگے اور رزلٹ کے طور پر یہی کہیں گے کہ زندگی بہت مشکل ہے قاسم علی شاہ فرماتے ہیں کہ میرے استاد نے مجھے نصیحت جو ہمیشہ مثبت بات ہوگی منفی بات نہیں ہوگی اور جو کتاب میں پڑھنا ہے اس کا ذہن ہمیشہ مثبت سوچیئے گا کبھی منفی نہیں ذہن فوکس کرنا سیکھتا ہے نت نئے خیالات ملتے ہیں انسان پر نصابی کتب کے علاوہ کردار کو بنانے میں بہت بڑا کردار اداکرتا ہیں زندگی میں بہتری لانے کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے والٹیڑ لکھتا ہے انسانوں نے انسانوں پر اتنی حکومت نہیں کی کتنی کتابوں نے انسانوں پر کی ہے دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں وہاں پر کتب بینی بہت زیادہ ہے اور ریلوے اسٹیشن پر بسوں میں پارکس میں کتابیں ہی پڑھتے نظر آتے ہیں یہودیوں کی ترقی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ وہ کتب بینی میں ہم سے بہت آگے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق ایک ے گیارہ کتابیں کم سےکم پڑتا ڈاکٹرطاھرالقادری مشہور مسلم سکالر لکھتے ہیں کتابیں خریدنے کیلئے فاقے کرتا تھا اورآ ج م یری لائبریری دنیا میں جس بھی ملک جاتا ہوں کتابوں کے کے ساتھ ہوں کتاب ایک بہت بھترین صحبت ہے نسان جیسی شخصیت کی کتاب کا مطالعہ کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے ان سے براہ راست استفادہ کر رہا ہوں فتنوں سے انسان بچ جاتا ہے قرآن شریف کا پڑھنا ایسا ھےجےسےاللہ پاک سے کلام کر رہا ہے اور حدیث پاک پڑھنا ایسے ہی جیسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں انسان بیٹھا ہوا ہے انسان کو علم حاصل ہوتا ہے اور انسان نیکی کی طرف چلتا ہے اور جس طرح انسان کھانا نہیں روک سکتا مرنے تک ایسے ہی مرتے دم تک کتاب کا مطالعہ بھی بند نہیں کر سکتا کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے بک سٹالز کا چکر لگانا چاہیے اور کتابیں خریدنے چاہیے اچھے اور معیاری کتابیں خود بھی پڑھنی چاہیے اور کتب بینی کے فروغ کے لیے دوستوں کو بھی تحفے تحائف میں معیاری



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں