منگل، 19 فروری، 2019

پاکستان میں شیلٹر ہومز ایک اچھا اقدام

اس شہر میں مزدور جیسا کوئی دربدر نہیں
 جس نے سب کے گھر بنائے اس کا کوئی گھر نہیں               شلٹر ہوم ایسی جگہیں ہیں جہاں پر انسانوں کی رہائش اور کھانا میسر ہوتا ہے شیلٹر ہومز سب سے پہلے یو کے سے سٹارٹ ہوا۔اب شیلٹر ہومز پشاور میں تعمیر کیے گئے  ہیں جہاں پانچ سو افراد ایک شیلٹر ہوم میں قیام پذیر ہو سکتے ہیں. ان کو وہاں رہائش اور کھانا بھی میسر ہے۔ جن میں ان کے لئے اٹیچڈ واشرومز بنائے گئے ہیں۔ معذوروں کے لئے ویل چیئرز اور سیڑھیاں بنائی گئی ہیں فیملیز کو علیحدہ ٹھرانے کا بھی انتظام ہے۔  کی پی کے علاوہ لاہور میں بھی پانچ مقامات پر اس موسم سرما میں عارضی رہائش گاہیں بنائی گئی ہیں جو کہ داتا دربار چوبرجی شادرہ اور ریلوے اسٹیشن وغیرہ پربنائے گئے ہیں  پاکستان میں ایک رپورٹ کے مطابق 39 فیصد پاکستانی عوام  ملٹی ڈائمنشنل غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے. یشیلٹر ہومز بنائے جارہے ہیں پشاور میں پانچ شلٹر ہوم تعمیر کئے جاتے ہیں جہاں پانچ سو افراد ایک شیلٹر ہوم میں قیام پذیر ہو  سکتے ہیں. وہ وہاں رہائش اور کھانے کے لئے بھی موجود ہیں جن میں ان کے لئے اچچ واشروم سے ہیمعذوروں کے لئے ویل چیئرز اور سیڑھیاں بنائی گئی ہیں فیملیز کو علیحدہ ٹھکانے کے انتظامات کی پی کے علاوہ علاوہ لاہور میں بھی پانچ مقامات پر اس موسم سرما میں عارضی رہائش گاہیں بنائے گئے ہیں جو کہ دریا دربار چوبرجی شادرہ اور ریلوے اسٹیشن وغیرہ پربنائی پاکستان میں ایک رپورٹ کے مطابق 39 فیصد پاکستانی عوام نے کثیر ڈائمنشنل غربت میں زندگی بسر کر رہا ہے. یہی غریب لوگ روزگار کے لئے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور اپنی غربت کی وجہ سے ہوٹل کا کرایہ افورڈ نہیں کر سکتے اور پھر مجبورا فوٹ پاتھوں پر راتیں بسر کرتے ہیں یا جب غریب لوگ النے مریضوں کو ہسپتال لاتے ہیں تو وہ اپنی رات پارکوں اور فوٹ پا تھوں پر گزارتے ہیں ۔ کراچی میں بھی کراچی کے گورنر نے سول ہسپتال کراچی کے ساتھ ایک شلٹر ہوم کا افتتاح کیا ہے راولپڈیڈی میں بھی فوارہ چوک کے قریب ایک چھوٹے پیمانے پر شیلٹرہوم بنا دیا ہے۔ شیلٹر ہوم کا اقدام بہت اچھا قدم ہے اور اس کو مزید بڑھانا چاہیے اور پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں شیلٹر ہورزی بنائے جائیں تاکہ عوام کے بنیادی حقوق روٹی کپڑا اور مکان کی پامالی نہ ہو۔ عمر فاروق رضی الله عنھوں جن کی شخصیت ہمارے لئے مشعل راہ ہے فرمایا کرتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا تو عمر سے اس کے   بارے میں سوال کیا جائے گا۔